عہد نبوی و ما بعد میں نظام قضاء کا مختصر جائزہ
Abstract
اسلام دین فطرت ہے اس کی تعلیمات زندگی کے تمام گوشوں اور پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں۔ اس کائنات ارضی میں انسانوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندے دنیا میں مبعوث فرمائے جو انبیاء اور رسل کہلاتے ہیں ۔ انبیاء علیھم السلام کامقصد بعثت جہاں انسانوں کی ہدایت اور راہنمائی تھا وہیں انسانوں کے درمیان باہم معاملات میں کسی نزعی صورت حال میں عدل کے ساتھ فیصلہ فرما نا بھی تھا۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
{ اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا لا وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ ط اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیْعًا م بَصِیْرًاً}(۱)
(بے شک اللہ تعالیٰ تم کو اس بات کا حکم دیتا ہے کہ اہل حقوق کو ان کے حقوق پہنچا دیا کر و اور یہ کہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل سے کرو ۔ بیشک اللہ تعالیٰ جس بات کی تم کو نصیحت کرتے ہیں وہ بات بہت اچھی ہے ، بلا شبہ اللہ تعالیٰ خوب سنتے ہیں خوب دیکھتے ہیں)۔
شریعت اسلامیہ کے عملی احکام فقہ کا موضوع ہیں ان کی وسعت زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ اس میں عبادات ، معاملات، تجارت ، امور معاشرت ، نکا ح و طلاق و نفقہ ، مالی تصرفات ، وقف ہبہ ، وصیت ، تقسیم میراث، امارت کے لیے ضروری اہلیت اور اختیارات و فرائض ، حکومت اسلامی کے تمام انتظامی شعبہ جات ، احتساب اور دیگر تمام شعبے مستقل فقہی مباحث کا موضوع ہیں ۔ اسی طرح اسلام کا نظام عدل اپنا ایک مستقل اور مکمل قانون رکھتاہے جو فقہ اسلامی کے ابواب میں سے اہم ترین ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء اسلام نے کتب فقہ میں اسلام کے قانون قضاء اوراسلامی عدلیہ کو الگ سے اور تفصیلاً بیان کیا ہے ۔ انسانی معاشرہ کو فلاحی معاشرہ بننے کے لیے عدل و انصاف جسم میں خون کی سی حیثیت رکھتا ہے ۔